لکھنؤ،16؍دسمبر(ایس او نیوز؍ایجنیس) اتر پردیش اسمبلی کے سرمائی اجلاس کے دوسرے دن جمعرات کو اسمبلی اور اسمبلی کے باہر سماج وادی پارٹی اور کانگریس کے اراکین نے مرکزی مملکتی وزیر داخلہ اجے کمار مشرا عرف ٹینی کو وزارت سے برخاست کئے جانے کے مطالبے کو لے کر زبردست ہنگامہ کیا۔
اسمبلی میں اجے مشرا کے معاملے پر اپوزیشن کے ہنگامے کی وجہ سے اسمبلی اسپیکر ہردئے نارائن دکشت کو اسمبلی کی کارروائی آدھے گھنٹے کے لئے ملتوی کرنی پڑی۔ اس درمیان ایس پی اور کانگریس کے اراکین نے اسمبلی احاطے میں اپنے حامیوں کے ساتھ نعرے بازی شروع کر دی۔
ایس پی کے سینئر لیڈر راجندر چودھری نے کہا کہ لکھیم پور کھیری میں اجے مشرا کے بیٹے کے ذریعہ پرامن احتجاج کر رہے کسانوں کے قافلے کو روندنے کے معاملے میں ایس آئی ٹی کی عدالت میں پیش کی گئی رپورٹ میں تشدد کے واقعہ کو منصوبہ بند طریقے سے انجام دینے کی بات کہی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لکھنؤ سے لے کر دہلی تک ٹینی کو ہٹانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ باوجود اس کے انہیں وزارت سے برخاست نہ کرنا شرمناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس پی مملکتی وزیر کے برخاستگی تک اپنی تحریک جاری رکھے گی۔
کانگریس کی لیجسلیچر لیڈر آرادھنا مشرا مونا نے کہا کہ پارٹی کے لیڈر راہل گاندھی شروع سے ہی لکھیم پور کے واقعہ کو ٹینی کے بیٹے کی منصوبہ بند واردات قرار دے رہے ہیں۔ مونا نے کہا کہ ایس آئی ٹی جانچ میں بھی راہل گاندھی کے الزامات صحیح ثابت ہوئے ہیں۔ اس لئے کانگریس پہلے دن سے ہی ٹینی کو مرکزی وزارت سے برخاست کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔